Tuesday, October 2, 2012

انور پاشا



غازی انور پاشا شہید……پاک دل پاکباز

میانہ قد، سبک اندام،خوب صورت اور چمکدار آنکھیں ، شجاعت میں بے مثال، جوشِ عمل کا کوہِ گراں، نہایت خلیق، بردبار، شیریں گفتار، پیکرِ ایثار اور شرم وحیا، رفقا میں گہری اور پائیدار وفاداری پیدا کرلینے کے جوہر سے متصف، عوام کا محبوب اور حُبِّ ملت کے لیے مرتبۂ شہادت پر فائز ہونے والا بطلِ جلیل۔ یہ ہیں اوصاف انور پاشا کے، جو خلافتِ عثمانیہ کے عہدِ زوال میں مہرِ اُمید بن کے طلوع ہوئے۔

انور پاشا 22 نومبر 1881ء کو استنبول میں پیدا ہوئے، جہاں ثانوی تعلیم کی تکمیل کے بعد ’’ملٹری اکیڈمی‘‘ میں داخل ہوگئے، جہاں فوجی افسروں کے تربیتی نصاب کے علاوہ جنرل اسٹاف کا اعلیٰ نصاب مکمل کیا، اور جب 2 دسمبر 1902ء کو آخری امتحان ہوا تو آپ نے پوری جماعت میں دوسرا درجہ حاصل کیا۔ (پہلا درجہ انور کے گہرے دوست اسمٰعیل حقی پاشا …… 1879ء ۔ 1915ء…… نے حاصل کیا) اس زمانے میں عثمانی افواج سات بڑی افواج میں منقسم تھیں۔ انور کو تیسری فوج کے جنرل اسٹاف میں بطور کپتان مقدونیہ میں متعین کیا گیا۔
یہ وہ زمانہ تھا جب خلافت کے اربابِ بست و کشاد ہم عصر یورپ سے مقابلے کے لیے سیاسی ودفاعی سطح پرکسی بڑی تبدیلی کے حق میں نہیں تھے۔ درحقیقت وہ آئینِ نو سے ڈرے اور طرزِ کہن پر اَڑے بیٹھے تھے ،اور ’’جیسا ہے جہاں ہے‘‘ کے فلسفے پرعمل پیرا تھے،۔ اس صورتِ حال میں تبدیلی اور دفاعی و انتظامی شعبہ جات کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے1889ء میں مناستر (مقدونیہ) میں ’’انجمن اتحاد و ترقی‘‘ کی بنیاد ڈالی گئی، تاہم یہ انجمن اپنے اہداف کے حصول میں کوئی خاطر خواہ سرگرمی نہیں دکھا سکی، مگر جب غازی انور پاشا اس کا حصہ بنے تو انہوں نے اس میں گویا نئی روح پھونک دی، یہ انور پاشا کی شاندار مساعی کا نتیجہ تھا کہ ملک میں اصلاحات کی غرض سے سلطان عبدالحمید کو دستور بحال کرنا پڑا۔ 

مگر شاید سلطان نے یہ فیصلہ وقتی مصلحت کے تحت کیا تھاوہ دل سے اس پر راضی نہیں تھا، اسی لیے جب سلطان عبدالحمید کی جانب سے دستور کی بساط لپیٹنے کی کوشش کی گئی تو مقدونیہ کی تیسری فوج نے حفاظتِ دستور کا فریضہ انجام دیا اور وہ محمود پاشا کی سرکردگی میں دارالخلافہ استنبول پہنچ گئی اور یوں سلطان عبدالحمید کی معزولی عمل میں آئی اور اُن کی جگہ اُن کے بھائی محمد رشاد خان ’’محمد خامس‘‘ کے لقب سے سریرآراء خلافت ہوئے۔ اس اقدام کے روح رواں انور پاشا تھے۔ دستور کی بحالی اور انتظامی شعبہ جات میں ہونے والی اصلاحات سے ترکی ایک نئے دور میں داخل ہوا۔

جنگ طرابلس میں داد شجاعت:

انور پاشا 1909ء میں برلن (جرمنی) کے ترک سفارت خانے میں بطور فوجی اتاشی متعین ہوئے جہاں آپ کو جرمنوں کی جنگی مہارت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ اس دوران (1911ء) میں اٹلی نے طرابلس (لیبیا) پر حملہ کردیا۔ ایسے میں انور پاشا اس سفارتی عہدے سے مستعفی ہوگئے اور آزاد رضاکار کی حیثیت سے بھیس بدل کر طرابلس پہنچ گئے۔ اس مہم میں انور پاشا کے ساتھ مصطفیٰ کمال پاشا اور عصمت انونو جیسے قابل ذکر افراد شریک تھے، چونکہ مصر پر برطانیہ قابض تھا اور اس نے ترک افواج کو طرابلس تک راہداری فراہم کرنے سے انکار کردیا تھا، مجبوراً انور پاشا اور ان کے رفقائے کار کو بھیس بدل کر طرابلس پہنچنا پڑا۔ انور پاشا نے طرابلس میں اپنی خداداد صلاحیتوں کا قابل فخر مظاہرہ کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے عرب نوجوانوں کو تربیت دے کر اطالوی افواج کے خلاف صف بستہ کردیا، اس محاذ پر اٹلی کو زبردست ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔

جنگ طرابلس اور مسلمانانِ ہند:

یہی وہ دور ہے جب اہلِ طرابلس کے عزم و ہمت، ترکوں کی اعانت، ہمدردی اور محبت کے ولولوں سے دنیائے اسلام نے نئی کروٹ لی اور خود پاک و ہند کے مسلمانوں میں ہمہ گیر بیداری کی لہر پیدا ہوئی۔ جس زمانے میں جنگِ طرابلس جاری تھی، برصغیر کے مسلمانوں میں عمومی بے چینی پائی جاتی تھی۔ ’’اقبالؒ نے بھی اس خبر سے گہرا اثر قبول کیا۔ نظم ’’حضورِ رسالت مآبؐ میں‘‘ اسی زمانے کی یادگار ہے:
گراں جو مجھ پہ یہ ہنگامۂ زمانہ ہوا
جہاں سے باندھ کے رختِ سفر روانہ ہوا
قیودِ شام و سحر میں بسر تو کی لیکن
نظامِ کہنۂ عالم سے آشنا نہ ہوا
فرشتے بزمِ رسالت میں لے گئے مجھ کو
حضور آیۂ رحمتؐ میں لے گئے مجھ کو
یعنی شاعر دنیا سے رخصت ہوکر، عالمِ خیال و تصور میں دربارِ رسالتؐ میں پہنچتا ہے تو آنحضورؐ پوچھتے ہیں:
نکل کے باغِ جہاں سے برنگِ بو آیا
ہمارے واسطے کیا تحفہ لے کے تُو آیا؟
اقبال جواباً عرض کرتے ہیں:
حضورؐ! دہر میں آسودگی نہیں ملتی
تلاش جس کی ہے، وہ زندگی نہیں ملتی
ہزاروں لالہ و گل ہیں ریاضِ ہستی میں
وفا کی جس میں ہو بو، وہ کلی نہیں ملتی
یہ نظم انہوں نے شاہی مسجد لاہور میں منعقدہ ایک جلسے میں پڑھی تھی اور لوگوں کو رلایا تھا۔ اس موقع اور منظر کی جو تصویر ایک چشم دید گواہ حکیم محمد یوسف حسن (مدیر: نیرنگِ خیال) نے پیش کی ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے:
’’
اس جلسے میں عام زندہ دلانِ لاہور کے علاوہ سر محمد شفیع، سر فضل حسین، میاں نظام الدین، مولوی محبوب عالم اور میاں عبدالعزیز جیسے مسلم راہ نما بھی موجود تھے۔ پہلے چند ریزولیوشن پڑھے گئے، پھر علامہ اقبال سے درخواست کی گئی کہ وہ اپنا کلام سنائیں۔ ہجوم میں پندرہ بیس ہزار مسلمان ہوں گے۔ جوش کا یہ عالم تھا کہ جذبات پر قابو رکھنا محال ہورہا تھا۔

 نظم پڑھنے سے پہلے سر محمد شفیع، میاں فضل حسین اور مولوی محبوب عالم ایڈیٹر پیسہ اخبار نے بڑی آتشیں تقریریں کیں، جن میں اٹلی کے خلاف غیظ و غضب کا اظہار کیا گیا تھا۔ جب علامہ نے نظم پڑھنی شروع کی تو مجمع پر ایک عجیب قسم کا سکوت طاری ہوگیا۔ اس وقت فرش پر ایک سوئی بھی گرتی تو آواز آتی۔ کلام کے علاوہ اقبال کی آواز میں ایک عجیب سوز تھا۔ حضرت علامہ نے مذکورہ نظم سنائی۔ علامہ نے جب پوری دل سوزی اور سرشاری سے یہ شعر پڑھا:
مگر میں نذر کو اک آبگینہ لایا ہوں
جو چیز اس میں ہے جنت میں بھی نہیں ملتی
لوگوں کا تجسس بڑھا، سوال پیدا ہواکہ بھلا وہ کیا چیز ہوگی، جو جنت میں نہیں ملتی…… اس کے بعد علامہ نے یہ شعر پڑھا:
جھلکتی ہے تریؐ امت کی آبرو اس میں
طرابلس کے شہیدوں کا ہے لہو اس میں
تو مجمع بے قابو ہوگیا۔ چیخ و پکار، نالہ و بکا اور آہ و فغاں سے مسجد کی دیواریں لرزنے لگیں۔ اللہ اکبر کے فلک شگاف نعرے سے فضا گونجنے لگی۔ لوگ پاگلوں اور دیوانوں کی طرح کپڑے پھاڑنے لگے، کوٹ اتار کر پھینک دیے اور ٹوپیاں فضا میں اُچھال دیں۔ زمین پر اس طرح لوٹنے اور تڑپنے لگے جیسے ان کو کسی نے ذبح کرڈالا ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں کسی موت کے سانحے پر یا کسی بھی موقع پر ایسا دل خراش منظر اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا۔‘‘
جنگِ طرابلس کے ضمن میں علامہ اقبال کی ایک اور نظم ’’فاطمہ بنتِ عبداللہ‘‘ کو بھی غیر معمولی پذیرائی حاصل ہوئی۔

جنگ بلقان:

طرابلس میں اٹلی کو ہزیمت اٹھانی پڑی تو بلقانی ریاستیں ترکی پر ٹوٹ پڑیں۔ ایسے میں انور پاشا کو ترکی واپس آنا پڑا۔ یورپ جس طرح طرابلس پر حملے کے وقت اٹلی کا پشتیبان تھا اسی طرح بلقانی ریاستوں کا پاسدار بن گیا۔ یہ دور خلافتِ عثمانیہ کے لیے بہت کٹھن ثابت ہوا، ترکی کو پے درپے شکست کا سامنا کرنا پڑا، مقدونیہ اور تھریس (تراقیا) چھن گئے، ادرنہ (ایڈریا نوپل) طویل محاصرے کے بعد سپرانداز ہوگیا۔ اور تو اور خود استنبول خطرے میں پڑگیا۔ اُس وقت کامل پاشا صدرِاعظم تھا، جسے عملاً برطانیہ کا کارندہ سمجھا جاتا تھا، اس کے ذریعے جنگ ملتوی کرواکر لندن میں صلح کی کانفرنس کا انتظام کیا گیا، جس میں قرار پایا کہ خلافتِ عثمانیہ مقدونیہ، تھریس کے وسیع علاقے، ادرنہ اور جزیرۂ اقریطش (کریٹ) سے دست بردار ہوجائے۔ 

 30 جنوری 1913ء کو کامل پاشا کی وزارت اس تجویز کو قبول کرنے والی تھی کہ انور پاشا جان پر کھیل کر اُس ایوان میں جاپہنچا جہاں وزارت کا اجلاس ہورہا تھا، اس کے ہاتھ میں ایک کاغذ تھا جس پر پانچ سو سے زیادہ فوجی افسروں کے دستخط تھے۔ مطالبہ یہ تھا کہ یا تو جنگ جاری رکھی جائے یا وزارت مستعفی ہوجائے۔ وزیر جنگ ناظم پاشا، انور پاشا کو روکنے کے لیے آگے بڑھا، اس کے ایڈی کانگ نے گولی چلادی، جس سے انور پاشا بال بال بچے، مگر اُن کا ایک ساتھی مارا گیا۔ انور پاشا کے ساتھیوں کی جوابی فائرنگ سے ناظم پاشا مارا گیا۔ انور نے اندر پہنچتے ہی مطالبہ پیش کردیا یعنی جنگ جاری رکھی جائے یا استعفیٰ دے دیا جائے۔ کامل پاشا اور اس کے ساتھی مستعفی ہوگئے۔

 تھوڑے ہی عرصے میں محمود پاشا کی زیرصدارت نئی وزارت بن گئی، لندن میں صلح کی جو تجویز قرار پائی تھی، ٹھکرا دی گئی اور جنگ ازسرنو شروع ہوگئی۔ ترکوں نے پامردی کا ثبوت دیا، تھریس کا خاصا حصہ بچالیا گیا جبکہ ادرنہ کو بھی واگزار کروالیا گیا۔ اس مہم میں انور پاشا بنفس نفیس شریک ہوئے اور ادرنہ میں فاتحانہ داخل ہوئے۔
زارِ روس، برطانیہ اور فرانس کی چیرہ دستیوں کے خلاف 2 اگست 1914ء کو جرمنی سے ایک معاہدہ کیا گیا۔ یہ معاہدہ اس قدر اہم اور خفیہ تھا کہ اس کا علم سعید حلیم پاشا، انور پاشا اور چند دیگر افراد کے سوا کسی کو بھی نہیں تھا۔

جنگِ عظیم اول

1914ء میں برپا ہونے والی جنگِ عظیم اوّل میں ترکوں کو نہ چاہتے ہوئے بھی شریک ہونا پڑا۔ اس دوران انور پاشا نے “تشکیلات مخصوصہ” کے نام سے ایک ادارہ سلیمان عسکری کے زیرانتظام قائم کیا جس نے مقدونیہ، طرابلس اور قفقاز وغیرہ میں گوریلا جنگ جاری رکھیٖ۔ کوت العمارہ (عراق) میں انگریزوں کو ہزیمت اٹھانا پڑی۔
اثنائے جنگ جبکہ مختصر عرصے کے لیے اتحادی افواج استنبول پر قابض ہوگئی تھیں، طلعت پاشا، انور پاشا، جمال پاشا، ڈاکٹر ناظم اور انجمن اتحاد و ترقی کے دوسرے ممتاز ارکان برلن چلے گئے، ان کی عدم موجودگی میں اتحادیوں کے زیر اثر استنبول کی فوجی عدالت نے 5 جولائی 1919ء کو انور پاشا، طلعت پاشا، جمال پاشا اور ڈاکٹر ناظم کو سزائے موت سنادی۔

ترک وطن اور مجاہدانہ سرگرمیاں:

ترکِ وطن کے بعد انور پاشا تقریباً ساڑھے تین سال تک حیات رہے۔ اس دوران اُن کی جولانیٔ طبع نے کسی طور قرار نہ پایا۔ وہ عالم اسلام میں جذبۂ حریت کی آبیاری کرتے رہے۔ انہوں نے روس اور وسط ایشیا کے متعدد دورے کیے۔ اس عرصے میں انہوں نے دو اداروں کی بنیاد رکھی۔ ایک کا نام ’’اسلام و استقلال جمہوریت لری اتحادی (انقلابی اسلامی انجمنوں کا اتحاد) تھا جسے ایک بین الملّی انقلابی ادارہ سمجھنا چاہیے، دوسرے کا نام ’’خلق شور الرفرقہ سی‘‘ (عوامی شورائی انجمن) تھا، جو پہلے ادارے کی ایک شاخ تھا۔

یکم ستمبر تا 9 ستمبر 1920ء کمیونسٹوں کے زیر اہتمام باکو میں نمائندگانِ اقوام مشرق کی ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں انور پاشا لیبیا، تیونس، الجزائر اور مراکش کے نمائندے کی حیثیت سے شریک ہوئے۔ انور پاشا اپنی ان سرگرمیوں کے دوران برلن اور وسط ایشیا آتے جاتے رہے، ایک مرتبہ ان کا طیارہ انجن کی خرابی کے باعث لتھووینیا میں اتر پڑا اور وہاں انہیں کئی ہفتے قید رکھا گیا، تاہم برلن کی مداخلت پر انہیں رہا کردیا گیا۔
انور پاشا کو یقین تھا کہ بالشویک اس تحریکِ آزادی کی مکمل حمایت کریں گے جو مصطفیٰ کمال پاشا کی زیر قیادت اناطولیہ میں شروع ہوچکی تھی، لہٰذا انہوں نے وزارتِ خارجہ روس سے اجازت لینا چاہی کہ ترک اسیرانِ جنگ اور مسلمانانِ قفقاز سے رسالے کے دو ڈویژن تیار کرکے انہیں اپنے زیر کمان اناطولیہ لے جائیں اور تحریک استقلال کی حمایت کریں۔ انہوں نے برلن سے مجاہدینِ اناطولیہ کے لیے اسلحہ خریدنے کی بھی کوشش کی، تاہم ان سب اقدامات کے باوجود مصطفیٰ کمال کو انور پاشا کا اناطولیہ آنا اور تحریک میں حصہ لینا پسند نہ تھا۔ اس صورت حال میں انور پاشا نے ایک طویل مکتوب مصطفیٰ کمال کے نام بھیجا جس میں واضح کیا کہ خدا جانے میرے متعلق بے بنیاد شبہات کیوں پیدا ہوگئے ہیں؟…… آخر میں کہا کہ میں صرف باہر ہی سے قومی تحریک کے لیے ہر ممکن اعانت کروں گا۔

کمیونسٹوں سے جنگ اور شہادت:

انور پاشا نے اپنے قول کو نبھایا اور اناطولیہ سے پرے رہتے ہوئے اپنی مجاہدانہ سرگرمیاں جاری رکھیں۔ انور پاشا باطوم سے تفلس، باکو، عشق آباد اور مرو کے راستے بخارہ پہنچے جہاں انہوں نے ترکستان پر کمیونسٹ روس کے ممکنہ حملے کی صورت میں مختلف گروہوں کو مزاحمت پر آمادہ کیا۔ کمیونسٹوں کے خلاف کارروائی کے دوران انور پاشا کو’’بسماچی‘‘ ازبکوں کے ایک مقامی رہنما نے گرفتار کرلیا، جہاں انور پاشا کو تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد ’’ایشاں سلطان‘‘ کی زیر قیادت بسماچیوں کے ایک دوسرے گروہ نے رہا کروایا۔ رہائی پاتے ہی انور پاشا نے دو سو تاجک مجاہدوں کے ساتھ دوشنبے میں موجود روسی افواج پر حملہ کردیا، یہ حملہ اچانک اور اس قدر زوردار تھا کہ روسی افواج کو دوشنبے خالی کرنا پڑا۔

19 فروری 1922ء کو مفرورین کے تعاقب میں انور کا بازو زخمی ہوگیا۔ روسیوں کے خلاف کامیابی کے نتیجے میں بہت سے مسلح افراد انور پاشا سے آملے، مگر 28 جون 1922ء کو ’’کافران‘‘ کے معرکے میں انور پاشا کی عدم کامیابی کے ساتھ ہی یہ لوگ جس تیزی سے جمع ہوئے تھے اسی تیزی سے منتشر ہوگئے۔

 انور پاشا نے مجاہدانہ سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے بسماچیوں کے ایک قائد ’’دانشمندبک‘‘ سے مل کر 4 اگست 1922ء کو’’ چکن‘‘ نامی گاؤں کے قریب روسی فوج پر جوابی حملہ کیا، روسی فوجی عددی اعتبار سے کہیں زیادہ تھے، خود انور پاشا نے رسالے کی کمان سنبھالی، وہ توپوں کی باڑ سے گزرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے کہ گولہ باری کی زد میں آگئے اور وہیں مرتبۂ شہادت پایا۔ دانشمندبک نے انور پاشا کو بچانے کی کوشش میں جان دے دی۔ 5 اگست 1922ء کو ’’چکن‘‘ میں ہی انور پاشا کی تدفین عمل میں آئی۔
غازی انور پاشا نے چالیس سال، آٹھ مہینے اور تیرہ روز کی عمر میں مرتبۂ شہادت پایا۔ آپ کی زندگی کا کوئی بھی لمحہ ایسا نہ تھا جو ملت ِ اسلامیہ کی بہبود کے لیے فکر و تدبیر اور ایثار و جانبازی سے خالی گزرا ہو۔

غازی انور پاشا شہید ؒ کا آخری خط

غازی انورپاشا (ولادت:1898ء۔شہادت: 4اگست 1922ء) ترکی کی اُن عظیم المرتبت ہستیوں میں سے ایک ہیں جن کی زندگی دشمنانِ اسلام کے خلاف رزم آرائی میں گزری، آپ وسط ایشیا میں روسیوں کے خلاف لڑتے ہوئے مرتبہ شہادت پر سرفرا زہوئے، اپنی شہادت سے ایک دن قبل آپ نے اپنی اہلیہ ناجیہ سلطانہ (1898ء۔ 1957ء)کو ایک خط لکھا جس کے ہر حرف اور ہر لفظ سے اللہ کی محبت، اسلام سے بے پناہ عقیدت اور اپنی اہلیہ سے بھرپور اُلفت کا اظہار نمایاں ہے۔ اولاًیہ خط ترکی کے اخبارات میں شائع ہوا، اور بعدازاں 22اپریل 1923ء کو ہندوستان کے اخبارات کی زینت بنا۔

دل کو چھولینے والا یہ خط آج نوے سال بعد بھی نوجوانوں کے لیے مشعل راہ ہے اور انھیں عظیم خلافت ِ اسلامیہ کی مجاہدانہ سرگرمیوں کی جھلک دِکھاتا ہے۔
عزیزم ناجیہ!
میری رفیقہ حیات اور سرمایہ عیش و نشاط پیاری ناجیہ! اللہ تمہارا نگہبان ہے، اس لمحے تمہارا آخری خط میرے سامنے ہے، یقین کرو، تمہارا یہ خط ہمیشہ میرے دل کے پاس رہے گا، یوں تو فی الوقت میں تمہیں دیکھ نہیں سکتا، تاہم خیمہ میں موجود دھندلکے کے باوجود اس خط کے بین السطور مجھے تمہارا چہرہ دکھائی دے رہا ہے، اس خط کے لفظوں میں تمہاری خوبصورت انگلیاں حرکت کرتی دکھائی دے رہی ہیں، جن سے تم میرے بالوں سے کھیلا کرتی تھیں، اکثر تمہاری تصویر میری نگاہوں میں گھوم جاتی ہے۔
تم نے لکھا ہے کہ میں نے تمہیں بھلا دیا ہے، مجھے تمہاری محبت کی کوئی پروا نہیں اور میں تمہارا پیار بھرا دل توڑ کر تم سے دور یہاں آگ اور خون سے کھیلنے چلا آیا ہوں، اور یہ کہ مجھے ذرا پروا نہیں کہ ایک عورت میرے فراق میں رات بھر تارے گنتی رہتی ہے۔
تم کہتی ہو کہ مجھے جنگ سے محبت اور شمشیر سے عشق ہے۔ مجھے احساس ہے کہ تم نے جوکچھ بھی لکھا ہے خلوص دل سے لکھا ہے، اس خط کے حرف حرف سے میرے لیے گہری محبت اور اخلاص چھلکتا ہے، مگر میں تمہیں کس طرح یقین دلاؤں (کہ الفاظ کفایت نہیں کرتے) تم مجھے اس دنیا میں سب سے زیادہ عزیز ہو، تم میری محبت اور چاہت کی معراج ہو، میں نے تم سے پہلے کسی کو بھی نہیں چاہا، ایک تم ہی ہو جس نے مجھ سے میرادل چھین لیا ہے۔
میری راحت ِ جاں! تمہیں یہ پوچھنے کا پورا حق ہے کہ پھر میں تم سے جدا کیوں ہوں ؟
توسنو! ’’میں تم سے اس لیے جدا نہیں ہوں کہ مجھے مال ودولت کی حرص ہے اور نہ ہی میں اس لیے تم سے دور ہوں کہ میں اپنے لیے کسی تخت ِ شاہی کی تمنا رکھتا ہوں جیسا کہ میرے بدخواہوں نے مشہور کر رکھا ہے۔ میں تم سے صرف اس لیے جدا ہوں کہ مجھے یہاں (اس میدان جنگ میں) اللہ کا حکم کھینچ لایا ہے، یہ اللہ کی جانب سے عائد کردہ عظیم ذمہ داری جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ 

یہ وہ فرض ہے جس کی محض نیت ہی انسان کو جنت الفردوس کا حقدار بنادیتی ہے اور الحمدللہ! میں اس فرض کی ادائیگی کی نیت ہی نہیں رکھتا بلکہ عملاً میدانِ جہاد میں موجود ہوں۔تمہاری جدائی میرے لیے تلوار کی مانند ہے جو ہر آن میرے دل کے ٹکڑے کیے جاتی ہے، لیکن اس کے باجود میں اس جدائی پر خوش ہوں ،کیونکہ یہ تمہارا سچا پیار ہی ہے جو اللہ سبحانہ تعالیٰ کی راہ میرے لیے آزمائش 

 ثابت ہو سکتا تھا۔
میں اللہ سبحانہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے اس امتحان میں سُرخرو کیا اور میں اپنی محبت اور اپنے نفس کی خواہش پر اللہ کی محبت اور اُس کے حکم کو مقدم رکھنے میں کامیاب رہا۔

 میری جان! تم کو اس مسرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا انتہائی شکرگزار ہونا چاہیے کہ تمہارے شوہرکو ایسا مضبوط ایمان ملا ہے کہ وہ خود تمہاری چاہت کو بھی اللہ کی محبت پر قربان کرسکتا ہے۔ یوں تو تم پر جہاد بالسّیف فرض نہیں ہے، مگر میری جان تم اس سے مستثنیٰ بھی نہیں ہو، مسلمان مرد ہو یا عورت کوئی بھی جہاد سے معذور نہیں ہے۔
تمہارا جہاد یہ ہے کہ تم اپنی محبت اور خواہش پر اللہ کی محبت کو ترجیح دو اور ساتھ ہی ساتھ اپنے اور اپنے شوہر کے درمیان رشتہ الفت کو پہلے سے بڑھ کر مضبوط کرو۔

 دیکھو! تم یہ دعا نہ کرنا کہ’’ تمہارا شوہر میدانِ جنگ سے صحیح و سلامت تمہاری آغوشِ محبت میں لوٹ آئے‘‘، کیونکہ یہ دعا خود غرضی پر مبنی ہے اور اللہ اس سے خوش نہیں ہوگا۔ اس کے برخلاف تم یہ دعا کرتی رہو کہ ’’اللہ تمہارے شوہر کے جہاد کے قبول فرمائے اور اسے کامیاب وکامران لوٹائے یا جام شہادت نوش کرائے۔ میری جان تم تو جانتی ہو کہ ان لبوں نے کبھی شراب نہیں چکھی، یہ ہمیشہ تلاوت ِقرآن ِ پاک سے تر اور اللہ سبحانہ تعالیٰ کی حمد و ثناء میں مصروف رہے ہیں۔
پیاری ناجیہ! وہ لمحہ کتنا مبارک ہوگا جب وہ سر جسے تم خوبصورت کہتی ہو، راہ خدا میں تن سے جدا کردیا جائے گا، اس تن سے جو تمہاری نظر میں کسی دوسرے سپاہی کا نہیں بلکہ تمہارے اپنے کا ہے۔انورؔ کی یہ تمنا ہے کہ وہ مرتبہ شہادت پائے اور روز آخرت وہ حضرت خالدبن ولیدؓ کے ساتھ ہو۔

 یہ دنیا عارضی ہے، موت کو تو بہر صورت آنا ہے، تو پھر موت کا خوف کیسا؟ جب موت یقینی ہے تو پھر جان بستر پر کیوں دی جائے؟ یہ جان اللہ کی راہ میں کیو ں نہ نثار کی جائے کیونکہ شہادت کی موت حقیقت میں موت نہیں بلکہ زندگی ہے، ایک لازوال زندگی۔
سنو ناجیہ! اگر میں شہید ہوجاؤں تو تم لازمی میرے بھائی نوری پاشا سے شادی کرلینا۔ مجھے تمہارے بعد نوریؔ بہت عزیز ہے۔ یہ میری خواہش ہے کہ میری شھادت کے بعد وہ زندگی بھر صدق دل سے تمہارا خیال رکھے۔ 

میری دوسری خواہش یہ کہ تمہاری جو بھی اولاد ہو (ناجیہ سلطانہ اس وقت امید سے تھیں) تم اُن کو میری زندگی کے بارے میں بتانا اور انھیں جہاد اسلامی میں شرکت کے لیے میدانِ جنگ روانہ کرنا۔ یاد رکھو اگر تم نے میری خواہش کا احترام نہیں کیا تو میں جنت میں تم سے روٹھ جاؤں گا۔ میری تیسری نصیحت یہ کہ مصطفیٰ کمال پاشا کی ہمیشہ خیر خواہ رہنا، ان کی ہر ممکن مدد کرتی رہنا کیونکہ اس وقت وطن کی نجات اللہ نے اس کے ہاتھ میں رکھ دی ہے۔

الوداع…… میری جان الوداع! نہ جانے کیوں میرا دل کہتا ہے کہ اس خط کے بعد میں تمہیں کبھی خط نہیں لکھ سکوں گا، کیا عجب کہ میں کل ہی شہید ہوجاؤں۔دیکھو! صبر کرنا، میری شہادت پر غمزدہ ہونے کے بجائے خوشی منانا 

کیونکہ میرا اللہ کی راہ میں کام آجانا تمہارے لیے بھی اعزاز ہے۔
ناجیہ! اب رخصت چاہتا ہوں مگر اس سے قبل عالم خیال میں تمھیں گلے لگاتا ہوں۔ 

انشاء اللہ اب ہم کبھی نہ جدا ہونے کے لیے جنت میں ملیں گے۔

تمہارا انور

انور پاشا کی مدینہ آمد

وزیر جنگ انور پاشا جب سویز اور شام کے محاذوں کے دورے سے فارغ ہوئے تو زیارتِ مدینہ کا قصد کیا۔ اس سفر میں ان کے ہمراہ جمال پاشا اور دیگر اعلیٰ فوجی حکام شامل تھے۔ انور پاشا کی مدینہ منورہ آمد کے حوالے سے عوام میں زبردست جوش و خروش پایا جاتا تھا۔ چنانچہ ٹرین بروز جمعہ مدینہ کے اسٹیشن پر پہنچی تو ایک خلقت انور پاشا کے استقبال کے لیے موجود تھی، ہر کوئی ان کی ایک جھلک دیکھنے کو بے تاب تھا، مگر انور پاشا کا حال یہ تھا کہ اپنے ہمراہیوں کے برعکس آپ نے اپنے نشاناتِ افسری اور فوجی لباس محض اس لیے زیب تن نہ کیا کہ سرکار 
دوجہاںؐ کے حضور پیش ہونے آئے ہیں۔

انور پاشا کی بیت المقدس میں لی گئی ایک یادگار تصویر
انور پاشا کو اسٹیشن کے بڑے ہال میں بلدیہ مدینہ کی طرف سے سپاس نامہ پیش کیا گیا، بعدازاں جب آپ روضۂ رسولؐ کی زیارت کے لیے روانہ ہونے لگے تو اسٹیشن کے باہر سواری کا انتظام تھا، مگر انور پاشا نے اس پر سوار ہونے سے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ ’’ہم غلاموں کی حیثیت سے یہاں آئے ہیں لہٰذا غلاموں کی طرح 

بارگاہِ نبوت تک پیدل چلیں گے‘‘۔

انور پاشا ایک جلوس کی شکل میں روضہ رسولؐ کی جانب روانہ ہوئے، شرکائے جلوس حمد و صلوٰۃ پڑھتے ہوئے جارہے تھے، جلوس کے دونوں جانب ترک فوجیوں کی قطاریں تھیں۔ ان قطاروں سے پرے اور مکانوں کی چھتوں پر بھی ایک خلقت جمع تھی۔ 
جمال پاشا اور دیگر جرنیلوں کی نظریں کبھی کبھی دائیں یا بائیں پڑجاتی تھیں مگر انور پاشا کی آنکھیں زمین سے لگی ہوئی تھیں۔ حرم نبویؐ پہنچنے پر آپ دست بستہ داخل ہوئے اور جب خادمِ روضۂ رسولؐ نے دعا پڑھانی شروع کی تو انور پاشا کی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑیاں بہہ رہی تھیں۔

شش زبان

انور پاشا مادری زبان ’’ترکی‘‘ کے علاوہ متعدد زبانوں پر عبور رکھتے تھے، چونکہ ملٹری اکیڈمی میں فرانسیسی زبان کی تحصیل لازمی تھی اس لیے فرانسیسی زبان سیکھی، بعدازاں بقدر ضرورت انگریزی اور جرمن زبانوں سے آگاہی حاصل کی۔ جنگِ طرابلس میں عربوں کے درمیان رہنے کی وجہ سے بے تکلف عربی زبان بولنے لگے، اور جب ماسکو جانا ہوا تو روسی زبان میں بات چیت کا محاورہ بھی پیدا ہوگیا۔

انور پاشا اور تحریک ریشمی رومال

بیسویں صدی کے آغاز میں برپا ہونے والی ’’تحریک ریشمی رومال‘‘ برعظیم پاک و ہند کی تاریخ آزادی کا اہم باب ہے۔ اس تحریک کو حضرت شیخ الہند مولانا محمودالحسنؒ جیسے عالم باعمل اور مولانا عبیداللہ سندھیؒ جیسے سیماب صفت بزرگان کی رہنمائی حاصل تھی۔ تحریک کا بنیادی ہدف انگریزوں کو ہندوستان سے نکال باہر کرنا تھا۔ چنانچہ اس مقصد کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے 1905ء سے 1914ء تک متواتر 9 سال منصوبہ بندی کی جاتی رہی۔ اس سلسلے کا سب سے اہم قدم حکومتِ ترکی سے معاہدہ تھا، جس کے مطابق ترک افواج کو براہ افغانستان مقررہ تاریخ (19 فروری 1914ء) کو ہندوستان پر حملہ آور ہونا تھا۔ 

یہ معاہدہ شیخ الہند مولانا محمودالحسن اور ان کے رفقا کی انور پاشا اور جمال پاشا (مملکتِ ترکی کے جنوبی اور غربی محاذ کے کماندار) سے مدینۃ المنورہ میں ملاقات کے بعد طے پایا تھا۔

اس معاہدے کے مطابق ترکی کے ہندوستان پر حملہ آور ہوتے ہی ٹھیک اسی تاریخ کو ہندوستان کے طول و عرض میں سرکارِ انگلشیہ کے خلاف بغاوت برپا ہونی تھی، 
مگر یہ ساری تحریک کامیابی کے آخری لمحات میں غداری کا

No comments:

Post a Comment